Salman Rashid

Travel writer, Fellow of Royal Geographical Society

نصیب اپنا اپنا

Bookmark and Share

رحمت خان بزدار سے میری ملاقات 2003 میں ہوئی۔ وہ ڈیرہ غازی خان میں کوہ سلیمان پر بیل پتھر کی چوٹی (اونچائی 2328 میٹر) کو جانے والے راستے پر ہمارے رہنما کے فرائض انجام دے رہا تھا۔
اگرچہ اسے پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ ہم سبزی خور ہیں تاہم اس کے باوجود اس نے میرے اور میرے دوست راحیل کے لیے دنبے کی سجی تیار کر لی۔ جب راحیل نے ہمارے کھانے کے لیے اپنے تھیلے سے تازہ بھنڈی نکال کر اسے پکانے کو دی تو اس کی ناراضگی بجا تھی۔
پہاڑ کی چوٹی پر تاروں بھری شاندار رات بسر کرنے کے بعد جب ہم نیچے اس کے گاؤں گئے تو رحمت نے دسویں مرتبہ مجھے یہ کہہ کر قائل کرنے کی کوشش کی کہ خاطر مدارت کوئی بری چیز نہیں ہوتی۔ جواباً دسویں مرتبہ میں نے اسے کہا کہ سبزی خوروں کے لیے بھیڑ ذبح کرنا کوئی اچھا خیال نہیں ہے۔ اگر وہ اور اس کے لوگ اپنے مویشی اسی طرح ذبح کرتے رہے تو بہت جلد ان کے قبیلے (بز کا مطلب بکری ہے جبکہ دار مالک کو کہتے ہیں) کا نام بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔
میں نے اسے کہا کہ عمدگی سے بنی سبزی یا دال سے بھی تواضع ہو سکتی ہے۔ مگر اس کا اصرار تھا کہ اس سے بلوچی میزبانی کا تصور پورا نہیں ہوتا۔ تب اس نے مجھے ایک داستان سنائی۔
کسی زمانے میں ایک رحم دل اور فیاض بلوچ ہوا کرتا تھا جس کے دروازے مہمانوں کے لیے ہر وقت کھلے رہتے تھے۔ اس کے دسترخوان پر بہت سے لوگ کھانا کھاتے تھے اور ایسا کبھی کبھار ہی ایسا ہوتا جب اسے اکیلے کھانا پڑا ہو۔ وہاں سے گزرنے والے مسافر بھی اس کے دسترخوان سے ماحضر تناول کیا کرتے تھے۔
مگر بلوچ کی بیوی اس جیسی نہیں تھی۔ وہ لڑاکا مزاج اور بخیل طبعیت کی مالک تھی۔ اسے اپنے باورچی خانے سے لوگوں کو کھانا کھلایا جانا بالکل پسند نہیں تھا اور وہ اس پر اکثر کڑھتی رہتی تھی۔
ایک دن وہ گھر کے دروازے پر کھڑی تھی جہاں اس نے دو افراد کو اپنی جانب آتے دیکھا۔ اس نے گھر کے اندر جا کر اپنے شوہر کو یہ اطلاع کچھ یوں دی جیسے کوئی مصیبت گھر پر نازل ہونے لگی ہو۔
اس شام جب اس کے شوہر نے تمام لوگوں کے لیے کھانا لانے کو کہا تو اس نے انکار کر دیا۔ وہ صرف ایک آدمی کا کھانا دستر خوان پر لائی اور کہنے لگی کہ یا تو وہ یہ کھانا خود کھا لے یا اپنے مہمانوں کو پیش کر دے۔ اگلی صبح اسے تین افراد گھر سے نکل کر بیابان کو جاتے دکھائی دیے۔ وہ چکرا گئی اور شوہر سے پوچھا کہ ایک شخص کے کھانے سے چار افراد کیونکر سیر ہو گئے؟
بلوچ نے بیوی کو جواب دیا کہ مہمان تین نہیں بلکہ ایک تھا۔ شام کے وقت مہمان کے ساتھ نظر آنے والا دوسرا شخص اس کا نصیب تھا کہ دنیا میں کوئی شخص اپنے نصیب کے بغیر نہیں آتا اور ہر ایک کا مقدر پہلے سے طے ہے۔ جب کوئی چلتا ہے تو اس کا نصیب بھی ساتھ چلتا ہے۔ انسان کا کھانا، پینا، کمانا، لٹانا، خوشی اور غم سمیت سب باتیں اس کے مقدر میں پہلے سے لکھ دی گئی ہوتی ہیں۔ کوئی شخص اپنے نصیب سے ذرا برابر زیادہ یا کم نہیں پاتا۔ اس دن مہمان نے اسی قدر کھایا جو اس کے نصیب میں لکھا تھا۔ اس دن اس کے لیے آدھا کھانا کم تھا۔
اس کی بیوی نے پوچھا کہ علی الصبح مہمان اور اس کے نصیب کے ساتھ باہر جانے والا تیسرا شخص کون تھا؟ بلوچ نے جواب دیا 'بھولی عورت! خدا کے کام بھی نرالے ہیں، ہمارے گھر میں ایک آفت آنے کو تھی۔ اسی دوران مہمان نے ہمارے ہاں کھانا کھایا، اگرچہ یہ میزبانی اعلیٰ درجے کی نہ تھی مگر اس سے خدا خوش ہو گیا اور مصیبت ٹل گئی۔ ہمارے گھر سے مہمان کے ہمراہ جانے والا تیسرا فرد دراصل وہی آفت تھی۔
رحمت خان کہنے لگا کہ ممکن ہے فیاض شخص اور اس کی کنجوس بیوی کی کہانی سچی نہ ہو مگر اسے یقین ہے کہ اس میں ایک نکتہ ضرور پایا جاتا ہے۔ اگر لوگ میزبانی نہ کرتے تو کوئی ایسے علاقوں میں کیونکر سفر کر پاتا جہاں کوئی سرائے بھی نہیں ملتی؟ مسافر کو خوش آمدید کہنے والوں کو بھی ویران راہوں پر ایسے ہی حالات کا سامنا ہوتا ہے اور انہیں بھی اسی طرح خوش آمدید کہا جاتا ہے۔
رحمت خان بزدار کا کہنا تھا کہ مسافروں کے لیے ذبح کی جانے والی بھیڑبکریاں گلے سے کم نہیں ہوتیں۔ اس کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے ہی حسب توقع بھنے ہوئے گوشت کی مہک ہمارے نتھنوں سے ٹکرائی اور ہم اپنی بھنڈیوں اور پیٹھے سے محروم ہو گئے۔

In English

Labels: , ,

posted by Salman Rashid @ 12:00 AM,

2 Comments:

At February 20, 2017 at 4:23 PM, Anonymous Arsatu Jah said...

Thank you Salman you have presented a beautiful tale in an equally beautiful narration. Love your work. God Bless

 
At March 2, 2017 at 10:29 AM, Blogger Salman Rashid said...

You are very kind, Arsatu. I thank you very much. This is such a beautiful tale, it brings tears to my eyes.

 

Post a Comment

Links to this post:

Create a Link

<< Home




My Books

Deosai: Land of the Gaint - New

The Apricot Road to Yarkand


Jhelum: City of the Vitasta

Sea Monsters and the Sun God: Travels in Pakistan

Salt Range and Potohar Plateau

Prisoner on a Bus: Travel Through Pakistan

Between Two Burrs on the Map: Travels in Northern Pakistan

Gujranwala: The Glory That Was

Riders on the Wind

Books at Sang-e-Meel

Books of Days